رحمن عباس( 30 جنوری 1972ء) بھارت کے افسانوی ادیب ہیں جنہیں اپنے ناول روحزن کے لیے 2018ء میں بھارت کے عظیم ترین ادبی اعزاز ساہتیہ اکیڈمی اعزاز کے نواز گیا تھا۔ وہ اس کے علاوہ انہیں دو صوبائی ساہتیہ اکیڈمی اعزازات بالترتیب ہائیڈ اینڈ سیک (2011ء) اور روزین (2017ء) بھی مل چکے ہیں۔وہ واحد بھارتی ادیب ہیں جنہوں نے جرمنی میں لٹپروم اعزاز حاصل کیا ہے۔وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی سے انگریزی ادب اور اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ پاکستانی مصنف اور ادیب مستنصر حسين تارڑ کا کہنا ہے کہ رحمن عباس کا تازہ ناول روحزن ایک بے خوف تخلیقی بیانیہ ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی کے سابق صدر پروفیسر گوپی چند نارنگ کا کہنا ہے کہ رحمن عباس کا ناول روحزن اردو ناول نگاری میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ رحمن عباس نے اب تک سات کتابیں لکھی ہیں جن میں 4 ناول شامل ہیں۔ نخلستان کی تلاش، ایک ممنوعہ محبت کی کہانی، خدا کے سائے میں آنکھ مچولی اور روحزن ان کی ناولوں کے نام ہیں۔نخلستان کی تلاش 2004ء میں اشاعت پزیر ہوئی۔ بنیاد پرستوں نے اسے تنقید کا شانہ بنایا نتیجتا انہیں جیل میں کچھ دن گزارنے پڑے لیکن 2016ء میں انہیں بری کر دیا گیا۔ انہیں 2011ء میں ان کے ناول خدا کے سائے میں آنکھ مچو لی کے لیے ساہتیہ اکیڈمی کے اعزاز سے نوازا۔